Sun, September 13, 2026 6:35 pm

کیا اے آئی انسانوں کے قابو سے باہر ہوسکتی ہے؟ اینتھروپک چیف نے ترقی سست کرنے کا مطالبہ کردیا

نیویارک: مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی سے پیدا ہونے والے خطرات کے پیش نظر اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈی نے اے آئی کمپنیوں سے ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار کچھ کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ انتہائی طاقتور اور خودمختار اے آئی سسٹمز کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مزید احتیاط ضروری ہے۔اموڈی کے مطابق اے آئی کی ترقی مکمل طور پر روکنا بھی مناسب نہیں کیونکہ اس ٹیکنالوجی سے انسانیت کو بڑے فوائد حاصل ہوسکتے ہیں، تاہم بہت تیزی سے آگے بڑھنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین اور ایکس اے آئی کے مالک ایلون مسک نے بھی اموڈی کے مؤقف سے اتفاق کیا۔ آلٹ مین نے کہا کہ اے آئی کی جدید ترین صلاحیتوں کی ترقی کی رفتار کو مناسب انداز میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، جبکہ مسک نے مختصر طور پر اموڈی کے مؤقف کی حمایت کی۔یہ بحث ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہی ہے جب اے آئی ایجنٹس سے متعلق سکیورٹی خدشات سامنے آئے ہیں۔ اوپن اے آئی نے تصدیق کی ہے کہ ٹیسٹنگ کے دوران اس کے اے آئی ایجنٹس نے انٹرنیٹ سے منسلک ہوکر ایک کوڈنگ ویب سائٹ کو نشانہ بنایا تھا، جس سے خودمختار اے آئی سسٹمز کے کنٹرول اور نگرانی پر سوالات اٹھے ہیں۔اموڈی نے خبردار کیا کہ اگر اے آئی کی صلاحیتیں موجودہ رفتار سے بڑھتی رہیں تو آنے والے مہینوں میں ایسے خودمختار ایجنٹس پیدا ہوسکتے ہیں جو بڑے پیمانے پر سائبر حملے اور دیگر نقصان دہ سرگرمیاں انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔اے آئی انڈسٹری میں حفاظتی اقدامات اور بیرونی نگرانی کے مطالبات بھی بڑھ رہے ہیں۔ اموڈی نے کمپنیوں کو مشترکہ حفاظتی معیار بنانے اور آزاد ماہرین سے اے آئی ماڈلز کی جانچ کرانے کی تجویز دی ہے، جبکہ امریکا میں بھی جدید اے آئی ماڈلز کی ریلیز سے قبل رضاکارانہ سکیورٹی جائزے کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔