ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں موجود ایمیزون کے ڈیٹا انفراسٹرکچر کو کروز میزائل حملے میں نشانہ بنایا ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی متعلقہ حکام نے اس کی تصدیق کی ہے۔ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس نے کہا ہے کہ یہ کارروائی امریکا کی جانب سے ایران کے علاقے دارخوین میں مبینہ طور پر شہری انفراسٹرکچر پر کیے گئے حالیہ حملوں کے جواب میں کی گئی بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ حملے میں بحرین میں واقع ایمیزون کے ڈیٹا انفراسٹرکچر کو کروز میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، تاہم حملے سے ہونے والے ممکنہ نقصان یا جانی نقصان کی کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔دوسری جانب خبر شائع ہونے تک ایمیزون، بحرینی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس نوعیت کے حملوں کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ صرف فوجی تنصیبات ہی نہیں بلکہ خطے کے اہم ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر کو بھی براہِ راست متاثر کرنے والی نئی پیش رفت تصور کی جائے گی۔تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب روایتی فوجی اہداف سے آگے بڑھ کر توانائی، مواصلات اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر تک پہنچنے کے خدشات کو بھی بڑھا رہی ہے، جس کے علاقائی اور عالمی سطح پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔واضح رہے کہ اس خبر میں شامل ایرانی دعووں کی تاحال کسی آزاد یا بین الاقوامی ذریعے سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔