فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اعلان کیا ہے کہ فرانس اور برطانیہ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے قائم مشترکہ فوجی مشن مکمل طور پر تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر فوری طور پر تعینات کیا جا سکتا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق میکرون کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے اور ممکنہ امن معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کی کوششیں جاری ہیں۔فرانسیسی صدر، جو جلد ہی جی سیون اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے ہیں، انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ فرانس اور برطانیہ کے مشترکہ مشن کے تمام ضروری وسائل اور عسکری اثاثے اپنی جگہ موجود ہیں اور تعیناتی کے لیے تیار ہیں۔میکرون نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی مکمل بحالی، بغیر کسی رکاوٹ اور اضافی فیس یا ٹول کے، خطے کے استحکام اور عالمی معیشت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کی توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت کا ایک بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، اس لیے اس اہم بحری گزرگاہ کا کھلا رہنا عالمی اقتصادی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق اگر ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری سرگرمیاں بحال ہونے سے عالمی منڈیوں، خصوصاً تیل کی قیمتوں، پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اور حالیہ کشیدگی کے دوران اس کی بندش نے عالمی سطح پر توانائی کی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی تھی۔