کُڈزو کی جڑ الکوحل کا استعمال کم کرنے میں مددگار ہو سکتی ہے: تحقیق

امریکا میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مشرقی ایشیا کے ایک پودے کُڈزو کی جڑ سے تیار کردہ جڑی بوٹیوں کا سپلیمنٹ حد سے زیادہ الکوحل کے استعمال میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو کے محققین کے مطابق کُڈزو کی جڑ سے تیار کردہ سپلیمنٹ استعمال کرنے والے الکوحل کے استعمال کی بیماری میں مبتلا افراد کے حد سے زیادہ الکوحل پینے والے دنوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی۔تحقیق کے مطابق اس سپلیمنٹ کے مثبت اثرات علاج کا دورانیہ مکمل ہونے کے تین ماہ بعد بھی برقرار رہے جس سے الکوحل استعمال کرنے کی عادت کم کرنے کے لیے علاج کا ایک نیا ممکنہ راستہ سامنے آیا ہے۔کُڈزو ایک بیل دار پودا ہے جس کا تعلق مشرقی ایشیا سے ہے لیکن یہ امریکا کی جنوبی ریاستوں میں تیزی سے پھیلنے والی غیر مقامی اور نقصان دہ نباتاتی اقسام میں شمار ہوتا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ امریکا میں حد سے زیادہ الکوحل کے استعمال کے باعث ہر سال تقریباً ایک لاکھ 78 ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جبکہ اس عادت سے چھٹکارا پانے یا اسے کم کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے علاج کے محدود طریقے دستیاب ہیں۔تحقیق کے مرکزی مصنف اور یونیورسٹی کے پروفیسر گلین مائلو سانتوس نے کہا کہ حد سے زیادہ الکوحل کا استعمال ایک عام مسئلہ ہے لیکن اسے کم کرنے کے خواہش مند افراد کی مدد کے لیے زیادہ مؤثر طریقوں کی ضرورت ہے۔ان کے مطابق تحقیق کا بنیادی مقصد ایسے افراد کے لیے علاج کے دستیاب طریقوں میں اضافہ کرنا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے نتائج حوصلہ افزا ہیں۔ البتہ، کُڈزو کے سپلیمنٹ کو الکوحل کا باقاعدہ اور ثابت شدہ علاج قرار دینے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔