Sat, September 12, 2026 3:33 pm

سندھ میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کا عوامی مطالبہ زور پکڑ گیا

سندھ میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور بہتر حکمرانی کے لیے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا عوامی مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔صوبے کے عوام نے روزگار، بنیادی سہولیات اور مؤثر انتظامیہ تک رسائی کے لیے نئے صوبوں کی تشکیل پر زور دیا ہے۔ مسائل کے حل کے لیے سندھ کے عوام نے نئے صوبوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات اور وسائل عوام کے قریب لانے کے لیے نئے انتظامی یونٹس اور صوبے قائم کیے جائیں۔شہریوں کا کہنا تھا کہ کراچی اور حیدرآباد سمیت دیگر شہروں پر مشتمل نئے صوبے بننے چاہییں تاکہ نچلی سطح تک اختیارات منتقل ہوسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے قیام سے ترقیاتی کام بھی زیادہ ہوں گے اور حکومتی امور میں شفافیت بھی آئے گی۔انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام سے کاروبار، انفرا اسٹرکچر اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے ہر علاقے پر الگ توجہ دی جائے۔ مزید یہ کہ وزیرداخلہ نے کہا کہ نظام ناکام ہو چکا ہے جو کہ حقیقت ہے، حکومت فیصلہ کرے تاکہ امن اور روزگار ملے۔شہریوں کا کہنا تھا کہ وہ سندھ میں صوبوں کی حمایت کرتے ہیں تاکہ صوبہ بھی یکساں ترقی کر سکے۔ دوسری جانب نئے انتظامی یونٹس کو بھی احسن اقدام قرار دیا گیا۔شہریوں نے کہا کہ جب آبادی 7 کروڑ تھی تو یہی صوبے تھے اور آج آبادی 26 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ لہٰذا عوامی مسائل کے مؤثر حل اور خوشحال مستقبل کے لیے نئے انتظامی صوبے بنائے جائیں۔شہریوں نے مزید کہا کہ نئے صوبوں کے قیام سے اختیار اور وسائل عوام کی دہلیز تک پہنچائے جائیں تاکہ عوامی مسائل کا مؤثر حل ممکن ہو اور خوشحال مستقبل کی بنیاد رکھی جاسکے۔