برسلز: یورپی یونین نے معروف چینی آن لائن شاپنگ پلیٹ فارم علی ایکسپریس پر 55 کروڑ یورو (تقریباً 63 کروڑ امریکی ڈالر) کا ریکارڈ جرمانہ عائد کر دیا ہے۔یورپی حکام کا کہنا ہے کہ پلیٹ فارم پر غیر قانونی، جعلی اور غیر محفوظ مصنوعات کی فروخت روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔ یورپی کمیشن کے مطابق تحقیقات میں معلوم ہوا کہ علی ایکسپریس پر ایسی متعدد مصنوعات فروخت ہو رہی تھیں جو یورپی یونین کے سخت حفاظتی اور ماحولیاتی معیار پر پورا نہیں اترتی تھیں۔ ان میں غیر محفوظ بچوں کے کھلونے، کاسمیٹکس اور دیگر مصنوعات شامل تھیں۔یورپی حکام کا کہنا ہے کہ جب پلیٹ فارم پر غیر قانونی مصنوعات کی نشاندہی بھی کی جاتی تھی تو ان میں سے کئی مصنوعات ہفتوں تک فروخت کے لیے دستیاب رہتی تھیں۔ اس کے علاوہ جعلی مصنوعات کی فروخت روکنے کے لیے بھی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔یورپی یونین کی ٹیکنالوجی امور کی سربراہ ہینا وِرکونن نے کہا کہ آن لائن خریداری کو محفوظ بنانا پلیٹ فارمز کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق ہر بڑے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی اور ان کا مؤثر حل یقینی بنانا چاہیے۔یہ جرمانہ یورپی یونین کے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت اب تک عائد کیا جانے والا سب سے بڑا جرمانہ ہے۔ یہ قانون 2022 میں نافذ کیا گیا تھا تاکہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور آن لائن پلیٹ فارمز کو صارفین کے تحفظ کے حوالے سے زیادہ جوابدہ بنایا جا سکے۔اس سے قبل یورپی یونین سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر 12 کروڑ یورو جبکہ آن لائن شاپنگ پلیٹ فارم ٹیمو پر 20 کروڑ یورو جرمانہ عائد کر چکی ہے۔دوسری جانب علی ایکسپریس نے یورپی یونین کے فیصلے کو ’غیر متناسب‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی نے صارفین کے تحفظ کے لیے مؤثر رسک مینجمنٹ نظام نافذ کیا ہے اور حالیہ برسوں میں متعدد اصلاحات بھی کی ہیں۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس جرمانے کے خلاف اپیل کرے گی۔یورپی کمیشن کے مطابق جرمانے کی رقم کا تعین خلاف ورزیوں کی نوعیت، ان کے اثرات اور خلاف ورزیوں کے دورانیے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق یورپی یونین میں علی ایکسپریس کے تقریباً 19 کروڑ 30 لاکھ صارفین موجود ہیں، جبکہ شین کے 15 کروڑ 60 لاکھ اور ٹیمو کے تقریباً 13 کروڑ صارفین ہیں۔ یورپی یونین علی ایکسپریس کی سب سے بڑی عالمی مارکیٹ سمجھی جاتی ہے۔