تل ابیب: اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوجی موجودگی کے مستقبل کے حوالے سے ممکنہ امریکی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی حکمت عملی پر غور کر رہا ہے۔ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے ’کان‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی حکام اس امکان کا جائزہ لے رہے ہیں کہ مستقبل میں امریکا جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا کا مطالبہ کر سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک نئے مذاکراتی دور کا آغاز آج متوقع ہے، جس میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے ممکنہ انخلا کے ابتدائی انتظامات پر بات چیت کی جائے گی۔یہ مذاکرات لبنانی فوج کے لیے ایک پائلٹ پروگرام کے تحت کیے جا رہے ہیں تاکہ علاقے میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں بتدریج لبنانی فورسز کے حوالے کی جا سکیں۔ذرائع کے مطابق مذاکرات امریکی ثالثی میں ہوں گے، جبکہ اسرائیل اور لبنان کے سفیروں کے علاوہ اسرائیلی فوج کے تین بریگیڈیئر جنرل بھی مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ اس عمل کا مقصد جنوبی لبنان میں کشیدگی کم کرنا اور جنگ بندی کو مزید مستحکم بنانا بتایا جا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو جنوبی لبنان میں کئی ماہ سے جاری فوجی کشیدگی میں کمی آسکتی ہے۔ تاہم اسرائیلی حکومت اور لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے درمیان اعتماد کی کمی اب بھی ایک بڑا چیلنج سمجھی جا رہی ہے۔امریکی کوششوں کو خطے میں استحکام کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں ہونے والے مذاکرات کے نتائج مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔