اسرائیلی سیاسی تجزیہ نگار گیڈیون لیوی نے امریکا اور ایران کے درمیان سامنے آنے والے مجوزہ معاہدے کو اسرائیل اور خاص طور پر وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی بڑی سیاسی ناکامی قرار دیا ہے۔عرب نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے گیڈیون لیوی نے کہا کہ اسرائیل میں امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے ممکنہ معاہدے کو اسرائیل کی شکست اور نیتن یاہو کی ذاتی شکست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کا معاملہ نیتن یاہو کا کئی دہائیوں پر محیط سیاسی منصوبہ رہا ہے لیکن موجودہ صورتحال میں اسرائیل کو مذاکراتی عمل سے مکمل طور پر باہر رکھا گیا ہے اور اب اس کے پاس صرف رکاوٹیں پیدا کرنے یا معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے محدود راستے باقی رہ گئے ہیں۔گیڈیون لیوی کے مطابق اسرائیل کی جانب سے جنوبی بیروت کے مضافاتی علاقوں پر حالیہ حملے بھی اسی حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں معاہدے پر اثرانداز ہونے کی کوشش ہیں، تاہم مجموعی طور پر اسرائیل اس پورے عمل میں اپنا مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔اسرائیلی مبصر نے مزید کہا کہ اصل امتحان اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کا ہوگا کہ آیا وہ اسرائیل کو جنگ بندی کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے سے روک پاتے ہیں یا نہیں۔ ان کے مطابق نیتن یاہو اب بھی ایسے کسی معاہدے سے مطمئن نہیں ہوں گے جو اسرائیل کی تمام ترجیحات پوری نہ کرتا ہو۔گیڈیون لیوی کا کہنا تھا کہ ایران اور لبنان کے معاملات ایک دوسرے سے جڑ چکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لبنان کی صورتحال مستقبل میں معاہدے کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے لبنان میں جنگ بندی کو بھی معاہدے کا حصہ بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ اسرائیلی فوج اب بھی لبنان کے بعض علاقوں میں موجود ہے اور انخلا کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ان کے مطابق جب تک اسرائیلی افواج لبنان میں موجود رہیں گی، مکمل اور پائیدار جنگ بندی کا حصول مشکل رہے گا کیونکہ مزاحمتی گروہوں کی جانب سے ردعمل کا امکان برقرار رہے گا۔تجزیہ نگار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے باوجود خطے میں استحکام کا انحصار لبنان کی صورتحال اور اسرائیل کے آئندہ اقدامات پر ہوگا۔