پنجاب میں  پراپرٹی ترمیمی ایکٹ فعال، 575 کیسز میں حکم امتناع ختم

لاہور:پنجاب میں پراپرٹی ترمیمی ایکٹ فعال ہونے کے بعد 575 مقدمات میں جاری حکم امتناع ختم ہو گئے ہیں۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے صوبے کے 36 اضلاع میں ایڈیشنل سیشن ججز کو ٹربیونل کے طور پر نامزد کر دیا ہے۔ چیف جسٹس کی جانب سے ٹربیونلز کے لیے نامزدگیوں کی فہرست پنجاب حکومت کو ارسال کر دی گئی ہے۔ایکٹ فعال ہونے کے بعد اب ایڈیشنل سیشن ججز بطور ٹربیونل بااختیار ہوں گے اور اراضی پر غیر قانونی قبضہ ثابت ہونے کی صورت میں 3 سے 10 سال تک سزا سنانے کا اختیار رکھتے ہوں گے۔لاہور میں ایڈیشنل سیشن جج سیف اللہ سوہل، قصور میں محمد اشفاق، اٹک میں ندیم احمد سہیل چیمہ، بہاولنگر میں محمد صلابت جاوید، بہاولپور میں ساحر اسلام اور بھکر میں محمد اعظم جاوید کو بطور ٹربیونل نامزد کیا گیا ہے۔اسی طرح چنیوٹ میں نعیم عباس، چکوال میں قاسم علی بھٹی، ڈی جی خان میں سرفراز حسین، فیصل آباد میں عمران شفیع خان، گوجرانوالہ میں محمد فرحان نبی، گجرات میں مظفر نواز ملک، حافظ آباد میں عمر رشید، جھنگ میں عمر فاروق خان، جہلم میں مرزا اورنگ زیب، خانیوال میں عبداللہ عثمان، خوشاب میں محمد بشیر، لودھراں میں حمد ایاز اور لیہ میں محمد پرویز نواز کو ٹربیونل کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔منڈی بہاالدین میں محمد فخر آفتاب احمد، میانوالی میں عبدالغفور، ملتان میں غزالہ یاسمین، مظفر گڑھ میں محمد احمد حسنین خان، نارووال میں عالم شیر، ننکانہ صاحب میں مجاہد شیردل چیمہ، اوکاڑہ میں خلیل احمد خان، پاکپتن میں اسد حفیظ، راولپنڈی میں چوہدری قاسم جاوید، راجن پور میں محمد اشرف، رحیم یار خان میں محمد بلال، ساہیوال میں محمد نعیم، سیالکوٹ میں عابد رضا خان، شیخوپورہ میں عبدالحمید، سرگودھا میں ظفر حیات، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں محمد کاشف اور وہاڑی میں محمد عمران کو بطور ٹربیونل نامزد کیا گیا ہے۔پراپرٹی ترمیمی ایکٹ کے نفاذ اور ٹربیونلز کے قیام کو اراضی تنازعات اور قبضہ مافیا کے خلاف قانونی کارروائیوں کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔